صحیح مسلم حدیث ۳۹۸۲ - قرض دار پر نرمی کی تائیدی روایت
قرض میں پھنسے شخص کے لیے نرمی کا پیغام
صحیح مسلم : ۳۹۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۸۲
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۸۲ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے، اس لیے اس کا اصل پیغام بھی قرض دار کی مدد، صدقہ، اور قرض خواہوں کے ساتھ انصاف سے متعلق ہے۔ متن میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث اسی سند سے بھی مروی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بات کا مرکز وہی ہے: ایک شخص نقصان کی وجہ سے قرض میں پھنس گیا، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کو اس کی مدد کے لیے صدقہ کرنے کا فرمایا، اور جب صدقہ بھی قرض پورا نہ کر سکا تو قرض خواہوں کو دستیاب مال لینے کی ہدایت دی گئی۔ اس سے قرض میں آسانی، مفلس کی مدد، اور نادار کے ساتھ رعایت کا عملی انداز سامنے آتا ہے۔ ایسے معاملے میں مقصد جھگڑا بڑھانا نہیں، بلکہ جو ممکن ہو اسے انصاف کے ساتھ حل کرنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مضمون کی دوسری سند سے روایت آنا اس پیغام کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
- قرض دار کی حقیقی تنگی کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
- دستیاب مال پر معاملہ ختم کرنا بھی عدل اور نرمی کا طریقہ ہو سکتا ہے۔
- لوگوں کو ضرورت مند کی اجتماعی مدد کی طرف متوجہ کیا گیا۔
