صحیح مسلم حدیث ۳۹۸۳ - نیکی سے انکار نہ کرنے کی تعلیم
معروف کام سے نہ رکیں: قرض میں رعایت کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۹۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۸۳
وحَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أُمَّهُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا ، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الْآخَرَ ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا ، فَقَالَ : " أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ ؟ قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر جھگڑنے کی آواز سنی، دونوں آوازیں بلند تھیں۔ ایک کہتا تھا: مجھے کچھ معاف کر دے اور میرے ساتھ رعایت کر۔ دوسرا کہتا تھا: قسم اللہ کی! میں کبھی معاف نہیں کروں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”وہ کہاں ہے جو اللہ کی قسم کھاتا تھا نیکی نہ کرنے پر۔“ ایک شخص بولا: میں ہوں یا رسول اللہ! اس کو اختیار ہے جیسا چاہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں۔ ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ کچھ معاف کر دے اور میرے ساتھ رعایت کر۔ دوسرا کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم، میں ایسا نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ وہ کہاں ہے جو اللہ کی قسم کھاتا تھا کہ نیکی نہیں کرے گا؟ اس پر وہ شخص نرم ہو گیا اور کہا کہ یا رسول اللہ، اسے اختیار ہے، جیسا چاہے۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ قرض کے معاملے میں نرمی، رعایت، اور معروف کام کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ قسم کھا کر بھلائی سے رک جانا پسندیدہ بات نہیں۔ قرض معاف کرنے کی حدیث اور اچھا معاملہ کرنے کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت بہت واضح پیغام رکھتی ہے کہ انسان کو خیر کے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکی کے کام سے خود کو قسم کے ذریعے نہ روکا جائے۔
- قرض میں رعایت مانگنے والے کی بات سننا اچھا عمل ہے۔
- بلند آواز اور جھگڑے کے بجائے نرمی سے معاملہ حل ہو سکتا ہے۔
- معروف کام میں دل کو نرم کرنا اس حدیث کا واضح سبق ہے۔
