صحیح مسلم حدیث ۳۰۰۶ - متعہ کے لفظ کی وضاحت

متعہ کے لفظ میں راوی کا اشکال: حدیث سمجھنے کا محتاط انداز

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۰۶

وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ . ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ جَمِيعًا ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، فَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَفِي حَدِيثِهِ الْمُتْعَةُ ، وَلَمْ يَقُلْ مُتْعَةُ الْحَجِّ ، وَأَمَّا ابْنُ جَعْفَرٍ ، فَقَالَ شُعْبَةُ : قَالَ مُسْلِمٌ : لَا أَدْرِي مُتْعَةُ الْحَجِّ أَوْ مُتْعَةُ النِّسَاءِ .

شعبہ روایت:

شعبہ نے اسی اسناد سے یہی مضمون روایت کیا اور عبدالرحمٰن کی روایت میں صرف متعہ کا لفظ ہے اور متعہ حج مذکور نہیں اور ابن جعفر کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ شعبہ نے کہا کہ مسلم نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ متعہ حج کا ہے یا متعہ عورتوں کا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۰۰۶ کا خلاصہ

یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے مضمون سے متعلق ہے، مگر اس میں ایک اہم نکتہ آتا ہے۔ بعض الفاظ میں صرف متعہ کا ذکر ہے، متعہ حج کی صراحت نہیں۔ ابن جعفر کی روایت میں شعبہ نے مسلم سے نقل کیا کہ وہ نہیں جانتے کہ یہاں متعہ حج مراد ہے یا متعہ نساء۔ اس روایت کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ محدثین نے الفاظ کو جیسے پایا ویسے ہی بیان کیا، اور جہاں راوی کو شبہ تھا وہاں اسے صاف ذکر کر دیا۔ یہ دینی علم میں دیانت کا انداز ہے۔ حج تمتع، متعہ حج، اور حدیث کے الفاظ کی تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ روایت بتاتی ہے کہ ہر لفظ کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • راوی نے جس جگہ اشکال تھا، اسے صاف بیان کیا۔
  • حدیث کے الفاظ میں اضافہ کر کے بات قطعی نہیں بنائی گئی۔
  • علمی دیانت یہ ہے کہ یقین اور شک میں فرق رکھا جائے۔
  • متعہ کے لفظ کو سیاق کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں