صحیح مسلم حدیث ۴۰۳۹ - حجامت، قسط بحری اور بچوں کو تکلیف نہ دینا
حجامت کی حدیث: بہتر علاج اور بچوں کے ساتھ نرمی
صحیح مسلم : ۴۰۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۳۹
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ ، عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ ، وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ ، وَلَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ .
حمید روایت:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: حجام کی کمائی کیسی ہے؟ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری، اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افضل ان چیزوں میں جن سے تم دوا کرتے ہو حجامت ہے (یعنی پچھنے لگانا) اور قسط بحری یعنی دریائی کوٹ اور مت ایذا دو اپنے بچوں کو حلق دبا کر۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۳۹ کا خلاصہ
یہ روایت بھی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے حجام کی کمائی کے سوال کے جواب میں آئی ہے، مگر اس میں کچھ مزید الفاظ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجامت کو ان چیزوں میں بہتر بتایا جن سے علاج کیا جاتا ہے، اور قسط بحری کا بھی ذکر فرمایا۔ ساتھ ہی بچوں کے بارے میں فرمایا کہ انہیں حلق دبا کر تکلیف نہ دو۔ اس حدیث میں حجامت، قسط بحری، بچوں کو تکلیف نہ دینا، اور حجام کی کمائی جیسے اہم سرچ الفاظ آتے ہیں۔ متن کی حد یہ ہے کہ حجامت کو علاج کے طور پر پسندیدہ بتایا گیا، قسط بحری کا ذکر آیا، اور بچوں کے علاج میں تکلیف دہ طریقے سے منع کیا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علاج میں نرمی اور فائدہ دونوں کا خیال رکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حجامت کو بہتر علاجوں میں بتایا گیا ہے۔
- قسط بحری کا ذکر علاج کے ضمن میں آیا ہے۔
- بچوں کو حلق دبا کر تکلیف دینے سے منع کیا گیا ہے۔
