صحیح مسلم حدیث ۴۰۶۴ - زیادتی لینے اور دینے دونوں کا حکم
سود کی حدیث: لینے والا اور دینے والا دونوں محتاط رہیں
صحیح مسلم : ۴۰۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۶۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَب ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ " ،
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیچو سونے کو سونے کے بدلے میں اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں گیہوں کو گیہوں کے بدلے میں اور جو کو جو کے بدلے میں اور کھجور کو کھجور کے بدلے میں اور نمک کو نمک کے بدلے میں برابر برابر، نقدا نقد پھر جو کوئی زیادہ دے یا زیادہ لے تو سود ہو گیا، لینے والا اور دینے والا برابر ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا، چاندی، گیہوں، جو، کھجور اور نمک کے تبادلے کا اصول بیان فرمایا۔ ایک ہی چیز کے بدلے وہی چیز بیچی جائے تو برابر برابر اور نقدا نقد ہونا چاہیے۔ حدیث کا خاص نکتہ یہ ہے کہ جو کوئی زیادہ دے یا زیادہ لے، دونوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ ربا میں برابر ہیں۔ اس لیے یہاں صرف لینے والے کو نہیں، دینے والے کو بھی احتیاط کا حکم سمجھ آتا ہے۔ عام تجارت میں کبھی آدمی سمجھتا ہے کہ زیادہ دینا کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اس روایت میں جس صورت کا ذکر ہے، وہاں زیادتی کو سود کہا گیا ہے۔ اس حدیث کا پیغام سادہ ہے: ایک ہی جنس کے تبادلے میں برابر تول، برابر مقدار، اور فوری قبضہ رکھا جائے تاکہ خرید و فروخت صاف رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی جنس کے تبادلے میں کمی بیشی سے بچنا چاہیے۔
- حدیث میں زیادہ لینے اور زیادہ دینے دونوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔
- نقدا نقد لین دین کو ربا سے بچاؤ کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
- تجارت میں برابری اور صاف معاملہ ضروری ہے۔
