صحیح مسلم حدیث ۴۰۶۳ - سونا چاندی اور اناج کی بیع کا اصول
سونا چاندی کی خرید و فروخت: ربا سے بچنے کا نبوی اصول
صحیح مسلم : ۴۰۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۶۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ ، فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " .
عبادہ بن صامت روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیچو سونے کو بدلے میں سونے کے اور چاندی کو بدلے میں چاندی کے اور گیہوں کو بدلے میں گیہوں کے اور جو کو بدلے میں جو کے اور کھجور کو بدلے میں کھجور کے اور نمک کو بدلے میں نمک کے برابر برابر، ٹھیک ٹھیک، نقدا نقد پھر جب قسم بدل جائے (مثلاً گیہوں جو کے بدلے) تو جس طرح چاہے بیچو (کم و بیش) پر نقد ہونا ضروری ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۶۳ کا خلاصہ
یہ حدیث ربا کی حدیث کے طور پر بہت اہم ہے، کیونکہ اس میں خرید و فروخت کے چھ عام مالوں کا واضح حکم آیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گیہوں گیہوں کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے مثلًا بمثل، برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی جنس میں کمی بیشی نہیں کی جائے گی۔ پھر حدیث میں یہ بھی بتایا گیا کہ جب جنس بدل جائے تو جیسے چاہو بیچو، بشرطیکہ لین دین نقد ہو۔ اس وضاحت سے تجارت میں آسانی بھی ہے اور سود سے بچاؤ بھی۔ عام الفاظ میں بات یہ ہے کہ ایک جیسی چیز کے بدلے وہی چیز ہو تو وزن یا مقدار میں برابری لازم ہے، اور مختلف چیزوں میں نقد ادائیگی کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک جیسی چیز کے بدلے وہی چیز ہو تو برابری ضروری ہے۔
- مختلف جنسوں کے تبادلے میں نقد لین دین کی شرط بیان ہوئی ہے۔
- حدیث تجارت میں آسانی اور احتیاط دونوں سکھاتی ہے۔
- ربا سے بچنے کے لیے معاملہ صاف اور فوری ہونا چاہیے۔
