صحیح مسلم حدیث ۴۰۶۶ - اناج اور نمک کی بیع میں برابری
اناج کی بیع میں ربا سے بچنے کا آسان اصول
صحیح مسلم : ۴۰۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۶۶
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى إِلَّا مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیچو کھجور کو کھجور کے بدلے اور گیہوں کو گیہوں کے بدلے اور جو کو جو کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے برابر برابر، نقدا نقد پھر جو کوئی زیادہ دے یا زیادہ لے تو سود ہو گیا مگر جب قسم بدل جائے۔“ (تو زیادتی اور کمی درست ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۶۶ کا خلاصہ
یہ حدیث خوراکی چیزوں کی خرید و فروخت میں ربا سے بچنے کا واضح اصول بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھجور کھجور کے بدلے، گیہوں گیہوں کے بدلے، جو جو کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر برابر اور نقدا نقد بیچا جائے۔ پھر فرمایا کہ جو زیادہ دے یا زیادہ لے، اس نے ربا کیا، مگر جب قسم بدل جائے۔ اس سے عام فہم بات یہ نکلتی ہے کہ ایک ہی چیز کے بدلے وہی چیز دی جا رہی ہو تو مقدار میں برابری چاہیے، لیکن جب جنس بدل جائے تو کمی بیشی کی گنجائش کا ذکر آتا ہے۔ اس حدیث میں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ اناج کی خرید و فروخت یا تبادلے میں دھندلا پن نہ ہو۔ برابری، فوری لین دین، اور جنس کی پہچان کو واضح رکھنا ربا سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھجور کے بدلے کھجور ہو تو برابر مقدار ہونی چاہیے۔
- گیہوں، جو اور نمک کے تبادلے میں بھی یہی اصول بیان ہوا ہے۔
- ایک ہی جنس میں زیادہ لینا یا دینا ربا کہا گیا ہے۔
- جنس بدل جائے تو حدیث میں الگ گنجائش کا ذکر ہے۔
