صحیح مسلم حدیث ۴۰۶۸ - سونا چاندی میں وزن برابر رکھنے کا حکم

سونا چاندی وزن برابر: سود سے بچنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۶۸

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَهُوَ رِبًا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیچو سونے کو سونے کے بدل تول کر برابر برابر اور چاندی کو چاندی کے بدل تول کر برابر۔ جو کوئی زیادہ دے یا زیادہ لے تو سود ہو گیا۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۰۶۸ کا خلاصہ

یہ حدیث سونا چاندی کی خرید و فروخت کے بارے میں صاف اصول دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونا سونے کے بدلے وزنًا بوزن، مثلًا بمثل ہو، اور چاندی چاندی کے بدلے بھی وزنًا بوزن، مثلًا بمثل ہو۔ پھر فرمایا کہ جو زیادہ دے یا زیادہ لے، وہ ربا ہے۔ اس روایت میں اناج یا دوسری چیزوں کا ذکر نہیں، اس لیے وضاحت بھی سونے اور چاندی تک محدود رکھنی چاہیے۔ عام زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر سونے کا تبادلہ سونے سے ہو رہا ہے تو وزن برابر رکھا جائے، اسی طرح چاندی کے بدلے چاندی ہو تو وزن برابر ہو۔ کمی بیشی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا گیا، بلکہ اسے ربا کہا گیا ہے۔ اس سے تجارت میں احتیاط اور صاف وزن کی اہمیت سامنے آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سونا سونے کے بدلے ہو تو وزن برابر ہونا چاہیے۔
  • چاندی چاندی کے بدلے ہو تو بھی برابر وزن کا حکم ہے۔
  • زیادہ لینے یا دینے کو حدیث میں ربا کہا گیا ہے۔
  • سونے چاندی کے معاملے میں وزن کی درستگی ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں