صحیح مسلم حدیث ۴۰۶۹ - دینار اور درہم میں زیادتی نہ ہو

دینار درہم کی بیع: برابری کا نبوی حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۶۹

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دینار کو بدلے دینار کے بیچو اور درہم کو بدلے درہم کے اور کوئی زیادہ نہ ہو ایک دوسرے سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۰۶۹ کا خلاصہ

یہ حدیث مختصر مگر بہت واضح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دینار کو دینار کے بدلے بیچو، اور درہم کو درہم کے بدلے، اور ایک دوسرے پر کوئی زیادتی نہ ہو۔ یہاں بات خاص طور پر دینار اور درہم کے تبادلے کی ہے، اس لیے اسے سونا چاندی کی بیع اور صرف کے باب میں سمجھا جاتا ہے۔ عام قاری کے لیے پیغام یہ ہے کہ ایک ہی نوعیت کی کرنسی یا مال کے بدلے وہی چیز دی جائے تو معاملہ برابر رکھا جائے۔ حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، بلکہ سیدھا اصول ہے: ایک کے بدلے ایک، بغیر اضافے کے۔ یہ اصول تجارت میں انصاف، صاف حساب اور ربا سے بچنے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ سرچ کرنے والے عموماً اسے دینار درہم حدیث، ربا کی حدیث، یا سود والی بیع کے حکم کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینار کے بدلے دینار میں زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔
  • درہم کے بدلے درہم بھی برابر رکھا جائے۔
  • حدیث مختصر الفاظ میں ربا سے بچنے کا اصول دیتی ہے۔
  • مالی لین دین میں صاف حساب اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں