صحیح مسلم حدیث ۴۰۷۵ - ہار میں موجود سونا الگ کر کے بیچنے کا حکم
ہار میں سونا ہو تو بیع کا اصول کیا ہے؟
صحیح مسلم : ۴۰۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۷۵
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ : أَنَّهُ سَمِعَ عُلَيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ وَهِيَ مِنَ الْمَغَانِمِ تُبَاعُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ ، فَنُزِعَ وَحْدَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ " .
فضالہ بن عبید انصاری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تشریف رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا اس میں نگ تھے اور سونا بھی تھا، وہ لوٹ کا مال تھا جو بک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا، اس کا سونا جدا کیا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب سونے کو سونے کے بدل بیچو برابر تول کر۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۷۵ کا خلاصہ
یہ حدیث ایک خاص واقعہ بیان کرتی ہے۔ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں نگ بھی تھے اور سونا بھی تھا، اور وہ مال غنیمت میں سے بک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس ہار میں جو سونا ہے اسے الگ کیا جائے، پھر فرمایا کہ سونا سونے کے بدلے وزنًا بوزن بیچو۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ جب کسی چیز میں سونا ملا ہوا ہو اور معاملہ سونے کے بدلے ہو، تو سونے کا حصہ واضح ہونا چاہیے۔ اس کے بعد سونا سونے کے بدلے برابر وزن کے ساتھ بیچا جائے۔ یہاں بات صرف اسی واقعے تک محدود ہے: ہار، اس میں موجود سونا، اسے الگ کرنا، اور پھر برابر وزن کا حکم۔ اس سے خرید و فروخت میں صافگی اور ربا سے بچنے کی احتیاط معلوم ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ملا ہوا سونا الگ کر کے واضح کیا گیا۔
- سونا سونے کے بدلے ہو تو وزن برابر ہونا چاہیے۔
- بیع میں چھپی ہوئی زیادتی سے بچنے کی احتیاط سامنے آتی ہے۔
- مال غنیمت کی چیز بیچتے وقت بھی شرعی اصول کا خیال رکھا گیا۔
