صحیح مسلم حدیث ۴۰۷۶ - سونے والے ہار کی بیع سے پہلے تفصیل
سونے اور نگ والے ہار کی بیع: پہلے سونا الگ کرو
صحیح مسلم : ۴۰۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۷۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : " اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ ، فَفَصَّلْتُهَا ، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ " ،
فضالہ بن عبید روایت:
میں نے خیبر کے روز ایک ہار خریدا بارہ اشرفیوں میں۔ اس میں سونا تھا اور نگ تھے جب میں نے سونا جدا کیا تو اس میں بارہ اشرفیوں سے زیادہ سونا نکلا، میں نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہار نہ بیچا جائے جب تک اس کا سونا علیحدہ نہ کیا جائے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۷۶ کا خلاصہ
یہ حدیث سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے اپنے واقعے پر مشتمل ہے۔ انہوں نے خیبر کے دن ایک ہار بارہ دینار میں خریدا، جس میں سونا بھی تھا اور نگ بھی۔ جب سونا الگ کیا گیا تو اس میں بارہ دینار سے زیادہ سونا نکلا۔ انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہار اس وقت تک نہ بیچا جائے جب تک اس کا سونا الگ نہ کر دیا جائے۔ اس حدیث میں اصل مسئلہ صاف ہے: جب کسی زیور میں سونا اور دوسری چیزیں ملی ہوئی ہوں، تو سونے کا حصہ معلوم اور جدا ہونا چاہیے، تاکہ تبادلے میں ناجائز زیادتی نہ آ جائے۔ یہاں کوئی لمبا پس منظر نہیں، بس خرید، الگ کرنا، زیادہ سونا نکلنا، اور پھر بیع سے پہلے تفصیل کا حکم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونا اور نگ ملے ہوں تو سونے کا حصہ الگ کیا جائے۔
- بیع سے پہلے اصل مال کی مقدار واضح ہونی چاہیے۔
- زیادتی چھپی رہ جائے تو معاملہ درست نہ رہ سکتا ہے۔
- سوال پیش کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح حکم دیا۔
