صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۸ - دینار درہم میں برابری کا اصول
دینار بدلے دینار اور درہم بدلے درہم
صحیح مسلم : ۴۰۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۸۸
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ مِثْلًا بِمِثْلٍ مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ غَيْرَ هَذَا ، فَقَالَ : لَقَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ " .
ابوصالح روایت:
میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے دینار بدلے دینار کے اور درہم بدلے درہم کے برابر برابر بیچنا چاہیے جو زیادہ دے یا زیادہ لے تو سود ہے میں نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اور کچھ کہتے ہیں انہوں نے کہا: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملا اور میں نے کہا: تم جو یہ کہتے ہو تو کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا یا قرآن میں پایا ہے؟انہوں نے کہا: نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نہ قرآن مجید میں پایا بلکہ مجھ سے حدیث بیان کی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“” «ربا» ادھار میں ہے۔“”(تو اس سے میں یہ سمجھا کہ اگر نقد کمی بیشی کے ساتھ بھی ہو تو ربا نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۸ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم کو برابر برابر رکھنے کی بات بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو زیادہ دے یا زیادہ لے، وہ سود میں پڑا۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے کا ذکر ہوا تو ابو سعید رضی اللہ عنہ نے ان سے سوال کیا کہ یہ بات رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنی ہے یا قرآن میں پائی ہے؟ جواب میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت کا ذکر آیا کہ ربا ادھار میں ہے۔ اس حدیث میں علمی گفتگو کا ادب بھی ہے اور بیع صرف کے نازک مسئلے کی احتیاط بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینار اور درہم کے تبادلے میں برابری اہم ہے۔
- علمی اختلاف میں اصل دلیل پوچھنا درست طریقہ ہے۔
- راوی نے بات کو نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت روایت تک جوڑا۔
