صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۹ - سود ادھار میں ہے
سود ادھار میں ہے: مختصر مگر اہم حدیث
صحیح مسلم : ۴۰۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۸۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ : أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
مجھ سے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سود ادھار میں ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۹ کا خلاصہ
یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر بیع صرف اور ربا نسیئہ کے باب میں اہم بات بیان کرتی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہے۔ اس حدیث میں اصل لفظ نسیئہ یعنی تاخیر یا ادھار کا پہلو نمایاں ہے۔ اس سے اتنا سبق ضرور ملتا ہے کہ مالی معاملات میں ادھار، تاخیر اور ادائیگی کی شرطیں معمولی بات نہیں ہوتیں۔ مسلمان کو خرید و فروخت، قرض اور تبادلے میں واضح شرط، صاف ادائیگی اور سود سے بچنے کی فکر رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ادھار والے مالی معاملات میں خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔
- حدیث مختصر ہے مگر ربا نسیئہ کے باب سے متعلق ہے۔
- دلیل کو صحیح راوی کے ذریعے نقل کرنا علمی امانت ہے۔
