صحیح مسلم حدیث ۴۰۹۰ - نقد بہ نقد میں ربا کی نفی
نقد بہ نقد معاملہ اور ربا کا مسئلہ
صحیح مسلم : ۴۰۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۹۰
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ح ، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " .
اسامہ بن زید روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ربا» نہیں ہے نقدا نقد میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۹۰ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو معاملہ ہاتھوں ہاتھ ہو، اس میں ربا نہیں۔ متن کا دائرہ یہی ہے کہ نقد بہ نقد معاملے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے اسے سمجھتے وقت اسی لفظ پر توجہ رہنی چاہیے: یداً بید، یعنی ہاتھوں ہاتھ ادائیگی۔ بیع صرف، کرنسی ایکسچینج یا سونے چاندی کے تبادلے جیسے معاملات میں لوگ عموماً یہی حدیث تلاش کرتے ہیں۔ مگر اس باب کی دوسری روایات بھی مقدار، جنس اور برابری کے اصول بیان کرتی ہیں، اس لیے احتیاط کے ساتھ معاملہ کرنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں نقد بہ نقد ادائیگی کا پہلو بیان ہوا ہے۔
- مالی معاملات میں ادائیگی کا وقت بہت اہم ہے۔
- ایک روایت کو اسی کے الفاظ کی حد میں سمجھنا چاہیے۔
