صحیح مسلم حدیث ۴۰۹۲ - سود کھانے اور دینے والے پر وعید
سود کھانے اور سود دینے والے کے بارے میں حدیث
صحیح مسلم : ۴۰۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۹۲
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ شِبَاكٌ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنَا ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ " ، قَالَ : قُلْتُ : وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ ، قَالَ : إِنَّمَا نُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْنَا .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر۔ راوی نے کہا: میں نے پوچھا: سود کا حساب لکھنے والے پر اور اس کے گواہوں پر تو انہوں نے کہا: ہم اتنی ہی حدیث بیان کریں گے جتنی ہم نے سنی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سود کھانے والے اور سود کھلانے والے پر لعنت فرمائی۔ راوی نے مزید پوچھا کہ سود لکھنے والے اور گواہوں کا کیا حکم ہے؟ جواب میں کہا گیا کہ ہم اتنی ہی حدیث بیان کریں گے جتنی ہم نے سنی ہے۔ اس روایت کا اصل پیغام سود کے معاملے کی سختی ہے، ساتھ ہی حدیث بیان کرنے کا بڑا ادب بھی سکھاتی ہے۔ راوی اپنی طرف سے اضافہ نہیں کر رہے، بلکہ جس حد تک سنا ہے اسی حد تک بات کہہ رہے ہیں۔ دین کی بات میں یہی امانت بہت ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سود لینے اور دینے دونوں کے بارے میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
- حدیث بیان کرتے وقت اپنی طرف سے اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔
- دینی بات میں سنی ہوئی بات کی حد تک رہنا امانت ہے۔
