صحیح مسلم حدیث ۴۱ - روایت لینے میں راوی کی جانچ

حدیث کی سند اور راوی کی جانچ کیوں ضروری ہے؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱

حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي خَلِيفَةُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى غَالِبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَجَعَلَ يُمْلِي عَلَيَّ ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، فَأَخَذَهُ الْبَوْلُ ، فَقَامَ ، فَنَظَرْتُ فِي الْكُرَّاسَةِ ، فَإِذَا فِيهَا ، حَدَّثَنِي أَبَانٌ ، عَنْ أَنَسٍ وَأَبَانٌ ، عَنْ فُلَانٍ ، فَتَرَكْتُهُ ، وَقُمْتُ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيَّ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ فِي كِتَابِ عَفَّانَ ، حَدِيثُ هِشَامٍ أَبِي الْمِقْدَامِ ، حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيز ، قَالَ هِشَامٌ : حَدَّثَنِي جُلٌ ، يُقَالُ لَهُ : يَحْيَي بْنُ فُلَانٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَفَّانَ : إِنَّهُمْ يَقُولُونَ هِشَامٌ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، فَقَالَ : إِنَّمَا ابْتُلِيَ مِنْ قِبَلِ هَذَا الْحَدِيثِ ، كَانَ يَقُولُ : حَدَّثَنِي يَحْيَي ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، ثُمَّ ادَّعَى بَعْدُ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ

خلیفہ بن موسیٰ روایت:

میں غالب بن عبیداللہ کے پاس گیا۔ وہ مجھ کو لکھوانے لگا، حدیث بیان کی مجھ سے مکحول نے۔ اتنے میں اس کو پیشاب آ گیا۔ وہ پیشاب کرنے گیا۔ میں نے اس کی کتاب کو دیکھا تو اس میں یوں لکھا تھا، حدیث بیان کی مجھ سے ابان نے انس سے اور ابان نے فلاں سے، یہ دیکھ کر میں نے اس سے روایت کرنا چھوڑ گیا اور اٹھ کر چلا گیا۔امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: سنا میں نے حسن بن علی حلوانی سے، وہ کہتے تھے میں نے عفان کی کتاب میں ہشام ابوالمقدام کی حدیث دیکھی جو عمر بن عبدالعزیز سے مروی ہے۔ ہشام نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا جس کا نام یحییٰ تھا فلاں کا بیٹا، اس نے محمد بن کعب سے سنا۔ میں نے عفان سے کہا لوگ کہتے ہیں ہشام نے اس حدیث کو خود محمد بن کعب سے سنا ہے عفان نے کہا: ہشام اسی حدیث کی وجہ سے آفت میں پڑ گیا پہلے کہتا مجھ سے حدیث بیان کی یحییٰ نے، اس نے سنا محمد سے۔ پھر کہنے لگا: میں نے خود سنا محمد سے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۱ کا خلاصہ

اس روایت کا مرکزی موضوع حدیث کی سند اور راوی کی تحقیق ہے۔ خلیفہ بن موسیٰ نے غالب بن عبیداللہ سے حدیث سنی، لیکن جب انہوں نے اس کی کتاب دیکھی تو بات بدلتی ہوئی نظر آئی۔ زبان سے مکحول کا نام لیا جا رہا تھا، مگر کتاب میں ابان اور دوسرے واسطے لکھے تھے۔ اسی فرق کو دیکھ کر انہوں نے روایت لینا چھوڑ دیا۔ دوسری مثال ہشام ابوالمقدام کی ہے، جس نے پہلے ایک واسطہ بتایا، پھر بعد میں براہ راست سننے کا دعویٰ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث قبول کرنے میں صرف اچھی بات کافی نہیں، بلکہ سند کی سچائی، راوی کا ضبط، اور بیان میں ایک جیسی بات ہونا بھی دیکھی جاتی ہے۔ یہ رویہ حدیث کی تحقیق اور ضعیف روایت سے بچنے کا بنیادی طریقہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث لیتے وقت راوی کے زبانی بیان اور لکھی ہوئی سند کا فرق دیکھا جا سکتا ہے۔
  • راوی کا دعویٰ بدل جائے تو محدثین اس پر احتیاط کرتے ہیں۔
  • دین کی بات نقل کرنے میں سند اور راوی کی حالت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
  • مشکوک روایت چھوڑ دینا علمی امانت کا حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں