صحیح مسلم حدیث ۴۱۱۵ - لوہے کی زرہ گروی رکھنے کا واقعہ
لوہے کی زرہ گروی رکھنا: رہن اور ادھار خرید کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۱۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۱۵
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے اناج خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی کردی۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے اناج خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی کر دی۔ اس روایت میں خاص طور پر زرہ کے لوہے کی ہونے کا ذکر آیا ہے۔ اصل بات پھر وہی ہے کہ ادھار خرید کے ساتھ ایک چیز رہن رکھی گئی۔ رہن کی حدیث کے طور پر یہ روایت مالی معاملات میں وضاحت اور ذمہ داری کا سبق دیتی ہے۔ آدمی جب ادھار معاملہ کرے تو دوسرے کے حق کو محفوظ رکھنے کا خیال بھی رکھے۔ متن میں نہ کوئی پیچیدہ بحث ہے اور نہ کوئی لمبی تفصیل، بلکہ ایک صاف عملی واقعہ ہے جو بتاتا ہے کہ خرید، ادھار اور گروی کی باتیں واضح انداز میں طے کی گئیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ادھار خرید میں دوسرے کے حق کا خیال رکھا گیا۔
- زرہ گروی رکھنا اس معاملے کی واضح صورت تھی۔
- روایت میں لوہے کی زرہ کا ذکر خاص طور پر آیا ہے۔
- مالی معاملے میں ذمہ داری اور وضاحت ضروری ہے۔
