صحیح مسلم حدیث ۴۱۱۶ - مقررہ مدت تک اناج لینا
مقررہ مدت کا ادھار اور رہن: اناج لینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۱۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۱۶
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : ذَكَرْنَا الرَّهْنَ فِي السَّلَمِ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيدٍ " ،
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ایک مقررہ مدت تک کے لیے اناج لیا اور اس کے پاس زرہ گروی رکھوائی۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۱۶ کا خلاصہ
اس روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے مقررہ مدت تک کے لیے اناج لیا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھوائی۔ اس حدیث میں دو باتیں خاص طور پر نمایاں ہیں: ایک مدت کا طے ہونا، دوسری رہن کا رکھا جانا۔ ادھار خرید کی حدیث میں یہ بات آسان زبان میں سمجھ آتی ہے کہ مالی معاملات مبہم نہیں رہنے چاہییں۔ جب مدت، چیز اور گروی واضح ہو تو معاملہ بہتر انداز میں طے ہوتا ہے۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں کے حقوق کا لحاظ رکھا گیا۔ متن صرف اتنا ہی بتاتا ہے، اس لیے ہمیں اسی حد تک رہ کر یہ کہنا چاہیے کہ ادھار اور رہن کے معاملے میں وضاحت ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ادھار معاملے میں مدت کا ذکر اہم ہے۔
- رہن رکھ کر دوسرے فریق کو اطمینان دیا گیا۔
- مالی معاملے میں چیز اور ذمہ داری واضح ہونی چاہیے۔
- متن ہمیں ادھار اور رہن کی عملی صورت دکھاتا ہے۔
