صحیح مسلم حدیث ۴۱۱۸ - بیع سلم میں ماپ، وزن اور مدت
بیع سلم کی حدیث: ماپ، وزن اور مدت واضح ہونی چاہیے
صحیح مسلم : ۴۱۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۱۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا ، وَقَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ ، فَقَالَ : مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ ، فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کو تشریف لائے اور لوگ سلف کرتے تھے میووں میں ایک سال دو سال کے لیے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی سلف کرے کھجور میں تو سلف کرے مقرر ماپ میں یا مقرر تول میں مقررہ میعاد تک۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں میں ایک سال یا دو سال کے لیے سلف کیا کرتے تھے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی کھجور میں سلف کرے، وہ مقرر ماپ یا مقرر تول میں، مقررہ مدت تک کرے۔ بیع سلم کی حدیث کا مرکزی سبق یہی ہے کہ ایسا معاملہ اندازے اور ابہام پر نہ چھوڑا جائے۔ چیز کیا ہے، کتنی ہے، وزن یا ماپ کیا ہے، اور مدت کیا ہے، یہ سب واضح ہو۔ عام فہم لفظوں میں یہ روایت کہتی ہے کہ پیشگی معاملے میں بعد کی لڑائی سے بچنے کے لیے شروع ہی میں بات صاف کر لی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیع سلم میں مقدار واضح ہونی چاہیے۔
- ماپ یا تول مقرر ہو تو معاملہ صاف رہتا ہے۔
- مدت کا تعین جھگڑے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
- پیشگی خرید و فروخت میں ابہام سے بچنا چاہیے۔
