صحیح مسلم حدیث ۴۱۱۹ - سلف میں معین ماپ اور تول
سلف کی حدیث: معین ماپ اور معین تول کی شرط
صحیح مسلم : ۴۱۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۱۹
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَسْلَفَ فَلَا يُسْلِفْ إِلَّا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ " ،
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور لوگ سلف کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی سلف کرے وہ معین ماپ میں کرے معین تول میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور لوگ سلف کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی سلف کرے، وہ صرف معین ماپ اور معین تول میں کرے۔ اس روایت میں خاص طور پر ماپ اور تول کی وضاحت آئی ہے۔ بیع سلم یا سلف کی حدیث میں اصل مقصد یہ سمجھ آتا ہے کہ پیشگی معاملہ دھندلا نہ رہے۔ اگر مقدار واضح نہ ہو تو بعد میں اختلاف پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے یہاں معین ماپ اور معین وزن کی بات فرمائی گئی۔ آسان لفظوں میں، جب آج رقم یا معاملہ ہو اور چیز بعد میں ملنی ہو تو مقدار کو اندازے پر نہ چھوڑا جائے بلکہ صاف الفاظ میں طے کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سلف کے معاملے میں مقدار واضح کرنی چاہیے۔
- معین ماپ اور معین تول سے ابہام کم ہوتا ہے۔
- مالی معاملے میں اندازے کے بجائے وضاحت بہتر ہے۔
- پیشگی خرید و فروخت میں شروع ہی سے بات صاف ہونی چاہیے۔
