صحیح مسلم حدیث ۴۱۴۹ - کلالہ کی روایت کی دوسری سند

کلالہ اور آیت فرائض: ایک ہی واقعے کی تائیدی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۴۹

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ ، وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ ، وَالْعَقَدِيِّ ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَحَدٍ مِنْهُمْ قَوْلُ شُعْبَةَ ، لِابْنِ الْمُنْكَدِرِ .

‏‏‏‏ اوپر والی حدیث اس سند سے بھی بیان ہوئی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۱۴۹ کا خلاصہ

یہ حدیث اوپر بیان ہونے والے واقعے ہی کو دوسری سند سے نقل کرتی ہے۔ مضمون یہ ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیمار تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، وضو کا پانی ان پر ڈالا گیا، انہیں ہوش آیا، پھر انہوں نے اپنے ترکہ کے بارے میں سوال کیا۔ روایت کے الفاظ میں آیت فرائض کے نازل ہونے کا ذکر ہے۔ اس طرح کلالہ کی میراث اور ترکہ کی تقسیم کا مسئلہ وحی کے ساتھ جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ ایک ہی واقعہ کئی سندوں سے آ سکتا ہے، مگر ہمارے لیے اصل سبق وہی ہے کہ میراث کا فیصلہ اللہ کی ہدایت کے مطابق کیا جائے، خاص طور پر جب وارثی صورت عام لوگوں کے لیے مشکل ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت پچھلے واقعے کی تائید کرتی ہے۔
  • کلالہ کے سوال کے بعد آیت فرائض کے نزول کا ذکر آیا ہے۔
  • میراث کے مشکل معاملے میں قرآن کی ہدایت کو بنیاد بنایا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں