صحیح مسلم حدیث ۴۱۵۱ - کلالہ کے مسئلے کی تائیدی سند
کلالہ کی میراث: عمر رضی اللہ عنہ کے خطبے کی دوسری روایت
صحیح مسلم : ۴۱۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۵۱
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنْ شُعْبَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۵۱ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے خطبے میں کلالہ کا مسئلہ ذکر کیا اور اسے اپنے نزدیک بہت اہم بتایا۔ روایت کا بنیادی سبق یہ ہے کہ کلالہ کی میراث کوئی معمولی سوال نہیں تھا، بلکہ اس پر بار بار سوال ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نساء کے آخر کی آیت کی طرف رہنمائی فرمائی۔ چونکہ یہ روایت اسی واقعے کی تائید کرتی ہے، اس لیے اس سے ہمیں وہی بات ملتی ہے کہ میراث کے معاملات میں اپنی رائے کو کافی نہ سمجھا جائے۔ خاص طور پر کلالہ جیسے مسئلے میں قرآن کی آیت کو اصل رہنما بنایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت عمر رضی اللہ عنہ کے بیان کی تائید کرتی ہے۔
- کلالہ کا مسئلہ اہم اور غور طلب بتایا گیا۔
- قرآن کی آیت کو میراث کے فیصلے میں بنیاد بنایا گیا۔
