صحیح مسلم حدیث ۴۱۵۸ - قرض اور ترکہ کی روایت کی تائید
میت کا قرض اور ترکہ: ایک ہی حکم کی دوسری روایت
صحیح مسلم : ۴۱۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۵۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۵۸ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اصل مضمون یہ ہے کہ قرض دار میت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے تھے کہ کیا اس نے قرض ادا کرنے کے لیے مال چھوڑا ہے یا نہیں۔ بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے وسعت عطا فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤمنوں کے بارے میں فرمایا کہ جو قرض چھوڑ کر مرے، اس کے قرض کی ذمہ داری آپ پر ہے، اور جو مال چھوڑے وہ اس کے وارثوں کا ہے۔ اس روایت سے میت کے قرض کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے اور ترکہ کے بارے میں وارثوں کا حق بھی۔ عام فہم سبق یہ ہے کہ قرض اور وراثت دونوں کو سنجیدگی سے لیا جائے، کیونکہ حدیث میں دونوں کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت قرض اور ترکہ کے حکم کی تائید کرتی ہے۔
- قرض کی ادائیگی کو اہم معاملہ بتایا گیا ہے۔
- مال چھوڑنے کی صورت میں وارثوں کا حق بیان ہوا ہے۔
