صحیح مسلم حدیث ۴۱۶۱ - ترکہ ورثاء کا حق ہے

وراثت کی حدیث: مال وارثوں کا اور بوجھ ذمہ داری

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۶۱

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ مَالًا ، فَلِلْوَرَثَةِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا ، فَإِلَيْنَا " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جو کوئی بوجھ چھوڑ جائے (قرض یا بال بچے) وہ ہماری طرف ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۱۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل پیغام وراثت اور ذمہ داری سے متعلق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ جو شخص مال چھوڑ جائے، وہ اس کے وارثوں کا ہے۔ یعنی مرنے والے کے مال کو وارثوں کے حق کے طور پر دیکھا جائے گا، نہ کہ کسی کی ذاتی پسند کے مطابق۔ اسی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص بوجھ چھوڑ جائے، جیسے قرض یا بال بچے، تو وہ ہماری طرف ہے۔ اس سے مراد یہ سمجھ آتی ہے کہ کمزور، مقروض اور بے سہارا افراد کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ یہ وراثت کی حدیث ہمیں مال کے حق اور ذمہ داری دونوں یاد دلاتی ہے۔ یہاں اصل زور اس بات پر ہے کہ ترکہ ورثاء کا ہے اور بوجھ کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مرنے والے کا چھوڑا ہوا مال اس کے وارثوں کا حق ہے۔
  • قرض یا بے سہارا اہل و عیال کو معمولی بات سمجھ کر نہیں چھوڑنا چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے کمزور لوگوں کی ذمہ داری کا ذکر فرمایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں