صحیح مسلم حدیث ۴۱۶۲ - مال وارثوں کا ہے
ترکہ ورثاء کا ہے: وراثت اور ذمہ داری کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۱۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۶۲
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا وَلِيتُهُ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۶۲ کا خلاصہ
یہ روایت اوپر بیان ہوئے مضمون کو دوسری سند سے نقل کرتی ہے۔ اس میں بھی اصل بات یہی ہے کہ جو شخص مال چھوڑتا ہے، اس کا مال وارثوں کے لیے ہے۔ ایک روایت کے الفاظ میں یہ اضافہ بھی آتا ہے کہ جو شخص بوجھ چھوڑے، اس کی ذمہ داری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف بیان فرمائی۔ اس بوجھ میں قرض یا ایسے اہل و عیال مراد ہو سکتے ہیں جن کا سہارا نہ رہے، جیسا کہ ترجمہ میں وضاحت آئی ہے۔ اس حدیث میں وراثت کی تقسیم اور کمزور لوگوں کی فکر دونوں ساتھ آتے ہیں۔ یہ بات بہت سادہ ہے کہ ترکہ ورثاء کا ہے، مگر قرض اور بے سہارا افراد کو بھلا دینا درست رویہ نہیں۔ اس لیے یہ حدیث مال، وارث اور ذمہ داری کے بارے میں بہت صاف رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مرنے والے کا چھوڑا ہوا مال اس کے وارثوں کا حق ہے۔
- قرض یا بے سہارا اہل و عیال کو معمولی بات سمجھ کر نہیں چھوڑنا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے کمزور لوگوں کی ذمہ داری کا ذکر فرمایا۔
