صحیح مسلم حدیث ۴۱۶۶ - صدقہ دے کر واپس پلٹنے سے بچو

صدقہ واپس لینے کی ممانعت: دوسری سند سے بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۶۶

وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِكٍ ، وَرَوْحٍ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۱۶۶ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی سابقہ واقعے کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ ترجمہ میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے، اور ساتھ یہ بھی اشارہ ہے کہ مالک اور روح کی روایت زیادہ مکمل ہے۔ اس لیے اس روایت کا مضمون وہی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں گھوڑا دیا، پھر اسے واپس خریدنے کا خیال آیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ صدقہ واپس لینے کی حدیث میں اصل پیغام یہ ہے کہ جب کوئی چیز اللہ کے لیے دے دی جائے تو بعد میں اسے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ اگر وہ چیز کم قیمت پر بھی مل رہی ہو، پھر بھی حدیث میں اسے چھوڑنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس طرح نیکی کا عمل صاف رہتا ہے اور دل صدقہ کے بعد دوبارہ اسی چیز سے نہیں جڑتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ دینے کے بعد اسے واپس لینے کی خواہش سے بچنا چاہیے۔
  • نیکی کے کام میں دی ہوئی چیز کو دوبارہ اپنا بنانے کی کوشش پسندیدہ نہیں۔
  • سستا ملنے کے باوجود دی ہوئی چیز واپس خریدنے سے منع کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں