صحیح مسلم حدیث ۴۱۶۷ - اپنا صدقہ واپس نہ لوٹاؤ

اپنا صدقہ واپس نہ لوٹاؤ: واضح نبوی نصیحت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۶۷

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَوَجَدَهُ يُبَاعُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " ،

عبداللہ بن عمر روایت:

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا دیا اللہ کی راہ میں پھر دیکھا تو وہ گھوڑا بک رہا تھا۔ انہوں نے اس کو خریدنا چاہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت خرید اس کو اور مت لوٹا اپنے صدقہ کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۱۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں بھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا تھا۔ پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا فروخت ہو رہا ہے، تو اسے خریدنے کا ارادہ کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خود فیصلہ کرنے کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے نہ خریدو اور اپنے صدقے کو واپس نہ لوٹاؤ۔ یہ مختصر جملہ صدقہ کے بارے میں بہت مضبوط رہنمائی دیتا ہے۔ دی ہوئی چیز، خاص طور پر اللہ کی راہ میں دی ہوئی چیز، دوبارہ اپنے قبضے میں لانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ یہاں اصل بات یہ نہیں کہ گھوڑا اچھا تھا یا سستا تھا، بلکہ اصل بات صدقہ واپس نہ لینے کی ہے۔ یہی اس حدیث کا مرکزی پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ دینے کے بعد اسے واپس لینے کی خواہش سے بچنا چاہیے۔
  • نیکی کے کام میں دی ہوئی چیز کو دوبارہ اپنا بنانے کی کوشش پسندیدہ نہیں۔
  • سستا ملنے کے باوجود دی ہوئی چیز واپس خریدنے سے منع کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں