صحیح مسلم حدیث ۴۱۶۸ - اللہ کے لیے دی ہوئی چیز واپس نہ لو
صدقہ واپس خریدنے کی حدیث: دوسری اسانید سے روایت
صحیح مسلم : ۴۱۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۶۸
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ كِلَاهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۶۸ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مضمون کو دوسری اسانید سے نقل کرتی ہے۔ ترجمہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ حدیث امام مالک کی روایت کے مثل ہے۔ اس سے اصل بات وہی سامنے آتی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں گھوڑا دیا، پھر جب وہ فروخت ہوتا نظر آیا تو اسے خریدنے کا خیال ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ اسے نہ خریدو اور اپنے صدقے کو واپس نہ لوٹاؤ۔ اس حدیث میں صدقہ واپس لینے کی ممانعت بہت صاف ہے۔ آدمی کبھی یہ سوچتا ہے کہ چیز پہلے میری تھی، اب سستی مل رہی ہے، تو واپس لے لوں۔ مگر حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کے لیے دی ہوئی چیز سے دل الگ رکھنا چاہیے۔ نیکی کے بعد دوبارہ اسی چیز کی طرف لوٹنا پسندیدہ نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ دینے کے بعد اسے واپس لینے کی خواہش سے بچنا چاہیے۔
- نیکی کے کام میں دی ہوئی چیز کو دوبارہ اپنا بنانے کی کوشش پسندیدہ نہیں۔
- سستا ملنے کے باوجود دی ہوئی چیز واپس خریدنے سے منع کیا گیا۔
