صحیح مسلم حدیث ۴۱۶۹ - اے عمر! اپنے صدقے میں واپس نہ لوٹو
لا تعد فی صدقتک: صدقہ واپس نہ لینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۱۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۶۹
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ رَآهَا تُبَاعُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ يَا عُمَرُ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں یہ ہے کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مت لوٹ اپنے صدقے میں اے عمر۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۶۹ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ بہت مختصر اور براہ راست ہیں: اے عمر! اپنے صدقے میں واپس نہ لوٹو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا تھا، پھر اسے فروخت ہوتے دیکھا اور خریدنے کا ارادہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس ارادے سے روک دیا۔ اس حدیث میں صدقہ واپس لینے کی ممانعت ایک نرم مگر واضح انداز میں سامنے آتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ صرف مال دینے کا نام نہیں، بلکہ دل کو بھی اس چیز سے الگ کرنا ہے۔ جب کوئی چیز اللہ کے لیے دی گئی تو پھر اسے دوبارہ اپنی چیز سمجھ کر واپس لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ نیکی کو نیکی رہنے دیا جائے اور واپس پلٹنے سے بچا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ دینے کے بعد اسے واپس لینے کی خواہش سے بچنا چاہیے۔
- نیکی کے کام میں دی ہوئی چیز کو دوبارہ اپنا بنانے کی کوشش پسندیدہ نہیں۔
- سستا ملنے کے باوجود دی ہوئی چیز واپس خریدنے سے منع کیا گیا۔
