صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۰ - صدقہ لوٹانے والے کی مثال

صدقہ لوٹانے والے کی مثال: کتے کی قے والی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۷۰

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الَّذِي يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ فَيَأْكُلُهُ " ،

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مثال اس کی جو لوٹاتا ہے اپنے صدقے کو مثال کتے کی ہے قے کر کے پھر جاتا ہے اس کے کھانے کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں صدقہ واپس لینے والے کی مثال بہت سخت اور سمجھ میں آنے والی دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے صدقے کو لوٹاتا ہے، اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے، پھر اپنی قے کی طرف واپس جاتا ہے اور اسے کھاتا ہے۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ صدقہ واپس لینا ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ حدیث میں لمبی بحث نہیں، بلکہ ایک ایسی مثال دی گئی ہے جس سے انسان فوراً سمجھ جائے کہ دی ہوئی چیز کو واپس لینا اچھی بات نہیں۔ صدقہ اللہ کے لیے ہو تو اسے واپس لینے کی سوچ سے بچنا چاہیے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع صدقہ واپس لینے کی ممانعت ہے، اور اس کا مقصد آدمی کو دی ہوئی نیکی سے دوبارہ وابستہ ہونے سے روکنا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ واپس لینا ناپسندیدہ عمل ہے، جیسا کہ حدیث کی مثال سے واضح ہے۔
  • دی ہوئی چیز کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش سے بچنا چاہیے۔
  • حدیث میں مثال کے ذریعے اس عمل کی برائی کو سمجھایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں