صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۱ - صدقہ واپس لینے کی سخت مثال

صدقہ واپس لینے کی حدیث: دوسری سند سے روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۷۱

وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ يَذْكُرُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ،

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۱ کا خلاصہ

یہ روایت بھی پچھلی حدیث کے اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ محمد بن علی بن حسین نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ اس لیے اس روایت کا اصل مطلب وہی ہے کہ صدقہ دے کر اسے واپس لینا سخت ناپسندیدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کی مثال کتے سے دی جو قے کرتا ہے پھر اسی کی طرف واپس جاتا ہے۔ یہ مثال عام آدمی کو بھی فوراً سمجھا دیتی ہے کہ صدقہ واپس لینے کا رویہ اچھا نہیں۔ صدقہ کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب کوئی چیز اللہ کے لیے دے دی جائے تو اسے دل سے بھی چھوڑ دینا چاہیے۔ اگر انسان بعد میں اسی چیز کی طرف لوٹے، تو نیکی کا ذوق کمزور ہو سکتا ہے۔ اس روایت میں اصل زور اسی بات پر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ کے بعد واپس لینے کی نیت سے بچنا چاہیے۔
  • حدیث میں دی گئی مثال اس عمل کی ناپسندیدگی سمجھاتی ہے۔
  • اللہ کے لیے دی ہوئی چیز کو دوبارہ اپنا بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں