صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۲ - صدقہ دے کر واپس نہ پلٹو
صدقہ دے کر واپس نہ پلٹو: حدیث کا آسان سبق
صحیح مسلم : ۴۱۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۷۲
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو : أَنَّ مُحَمَّدَ ابْنَ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث بیان کی گئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۲ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مضمون کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ ترجمہ میں واضح ہے کہ مذکورہ بالا حدیث اسی طرح نقل کی گئی۔ اس لیے یہاں بھی اصل پیغام صدقہ واپس لینے کی ممانعت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ دے کر واپس لوٹنے والے کی مثال ایسے کتے سے دی جو قے کر کے پھر اسے کھانے کی طرف جاتا ہے۔ یہ مثال سخت ہے، مگر بات کو بہت صاف کر دیتی ہے۔ دی ہوئی چیز کو واپس لینے کی خواہش انسان کے دل میں آ سکتی ہے، خاص طور پر جب وہ چیز اچھی ہو یا اسے دوبارہ حاصل کرنا آسان ہو۔ لیکن حدیث سکھاتی ہے کہ صدقہ دینے کے بعد اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ نیکی کا حسن اسی میں ہے کہ آدمی واپس پلٹنے کے بجائے اپنے عمل کو اللہ کے لیے رہنے دے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ دے کر اسے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔
- حدیث میں مثال کے ذریعے عمل کی ناپسندیدگی بتائی گئی ہے۔
- نیکی کے بعد دل کو اسی مال سے دوبارہ نہ جوڑا جائے۔
