صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۳ - صدقہ دے کر واپس لینے کی ممانعت

صدقہ دے کر واپس لینے کی حدیث: آسان اردو تشریح

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۷۳

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ : أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَأْكُلُ قَيَاهُ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”مثال اس شخص کی جو صدقہ دے پھر اس کو لینا چاہے، کتے کی سی ہے جو قے کرتا ہے پھر قے کو کھاتا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا فرمان بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص صدقہ دے، پھر اپنے صدقے میں واپس لوٹے، اس کی مثال کتے کی سی ہے جو قے کرتا ہے، پھر اپنی قے کھاتا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع صدقہ واپس لینے کی ممانعت ہے۔ یہاں بات بہت سادہ ہے: صدقہ دینے کے بعد اسے دوبارہ لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ حدیث میں دی گئی مثال سخت ہے، تاکہ انسان اس عمل کی ناپسندیدگی کو آسانی سے سمجھ لے۔ صدقہ اللہ کی رضا کے لیے دیا جاتا ہے، اس لیے دینے والے کو چاہیے کہ دی ہوئی چیز سے اپنا تعلق ختم سمجھے۔ اگر بعد میں وہ چیز واپس لینے کی خواہش پیدا ہو تو اس حدیث کو یاد کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ دینے کے بعد اسے واپس لینے کی سوچ سے بچنا چاہیے۔
  • حدیث کی مثال اس عمل کو سخت ناپسندیدہ بتاتی ہے۔
  • دی ہوئی چیز کو اللہ کے لیے چھوڑ دینا صدقہ کے ادب میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں