صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۴ - ہبہ واپس لینے کی ممانعت
ہبہ واپس لینے کی حدیث: تحفہ دے کر واپس نہ لو
صحیح مسلم : ۴۱۷۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۷۴
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " ،
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ میں لوٹنے والا مثل اس کے ہے جو قے کر کے پھر کھانے جائے اس کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع ہبہ، یعنی تحفہ یا بخشش، واپس لینے کی ممانعت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہبہ میں واپس لوٹنے والا اس شخص کی طرح ہے جو قے کر کے پھر اسے کھانے جائے۔ یہ مثال بہت واضح ہے اور عام آدمی بھی اس سے سمجھ لیتا ہے کہ تحفہ دے کر واپس لینا اچھا عمل نہیں۔ حدیث میں تفصیل نہیں دی گئی کہ کس قسم کا ہبہ تھا؛ اس لیے ہمیں اسی حد تک بات کرنی چاہیے جو متن میں آئی ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ جب کوئی چیز ہبہ کر دی جائے تو اسے دوبارہ لینے کی عادت یا خواہش سے بچنا چاہیے۔ تحفہ دینے والا اگر بعد میں واپس لینے لگے تو تعلقات میں بھی خرابی آ سکتی ہے۔ اس لیے ہبہ دیتے وقت سوچ سمجھ کر دینا اور پھر اسے چھوڑ دینا بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہبہ یا تحفہ دے کر واپس لینے سے بچنا چاہیے۔
- دی ہوئی چیز کو دوبارہ اپنا بنانے کی کوشش حدیث میں ناپسندیدہ مثال کے ساتھ آئی ہے۔
- تحفہ دیتے وقت سوچ سمجھ کر دینا چاہیے تاکہ بعد میں واپسی کی نوبت نہ آئے۔
