صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۵ - تحفہ واپس لینے سے بچو
تحفہ واپس لینے کی حدیث: دوسری سند سے بیان
صحیح مسلم : ۴۱۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۷۵
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۵ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی سابقہ حدیث کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ ترجمہ میں آیا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث اسی سند سے مروی ہے، اس لیے مضمون وہی ہے: ہبہ دے کر واپس لینا ناپسندیدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبہ میں واپس لوٹنے والے کی مثال ایسے شخص سے دی جو قے کر کے پھر اسی کی طرف واپس جائے۔ اس مثال میں سخت تنبیہ ہے، مگر زبان سادہ ہے۔ انسان جب کسی کو تحفہ یا ہبہ دے، تو اسے دوبارہ اپنی ملکیت سمجھ کر واپس لینے کی کوشش نہ کرے۔ ہبہ واپس لینے کی حدیث ہمیں یہ بھی سمجھاتی ہے کہ دینے سے پہلے سوچ لینا چاہیے، کیونکہ دینے کے بعد دل بدلنے سے اچھا اثر نہیں پڑتا۔ اس روایت کا اصل سبق یہی ہے کہ دی ہوئی چیز کو واپس لینے کی عادت سے بچا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہبہ یا تحفہ دے کر واپس لینے سے بچنا چاہیے۔
- دی ہوئی چیز کو دوبارہ اپنا بنانے کی کوشش حدیث میں ناپسندیدہ مثال کے ساتھ آئی ہے۔
- تحفہ دیتے وقت سوچ سمجھ کر دینا چاہیے تاکہ بعد میں واپسی کی نوبت نہ آئے۔
