صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۶ - ہبہ واپس لینے والے کی مثال
ہبہ واپس لینے والے کی مثال: کتے کی قے والی حدیث
صحیح مسلم : ۴۱۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۷۶
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ کو لوٹانے والا مثل کتے کے ہے جو قے کر کے پھر اپنی قے کو کھانے جاتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبہ واپس لینے والے کی مثال کتے سے دی ہے جو قے کرتا ہے، پھر اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ مثال سن کر آدمی فوراً سمجھ جاتا ہے کہ ہبہ دے کر واپس لینا پسندیدہ عمل نہیں۔ ہبہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی کو اپنی چیز خوشی سے دے دے۔ جب چیز دے دی گئی تو پھر اسے واپس لینے کی کوشش دل کی کمزوری اور رویے کی خرابی بن سکتی ہے۔ حدیث میں کوئی لمبی شرط یا تفصیل بیان نہیں ہوئی، اس لیے اصل بات پر رہنا چاہیے: ہبہ واپس لینے سے بچو۔ یہ حدیث تحفہ واپس لینے کی حدیث کے طور پر بھی تلاش کی جاتی ہے، کیونکہ روزمرہ زندگی میں لوگ تحفہ دے کر بعد میں نادم ہو جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے کہ ایسی واپسی سے بچا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہبہ یا تحفہ دے کر واپس لینے سے بچنا چاہیے۔
- دی ہوئی چیز کو دوبارہ اپنا بنانے کی کوشش حدیث میں ناپسندیدہ مثال کے ساتھ آئی ہے۔
- تحفہ دیتے وقت سوچ سمجھ کر دینا چاہیے تاکہ بعد میں واپسی کی نوبت نہ آئے۔
