صحیح مسلم حدیث ۴۲۰ - موسیٰ اور یونس علیہم السلام کا تلبیہ
وادی ازرق میں موسیٰ علیہ السلام اور ہرشا میں یونس علیہ السلام کا تلبیہ
صحیح مسلم : ۴۲۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۰
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِوَادِي الأَزْرَقِ ، فَقَالَ : أَيُّ وَادٍ هَذَا ؟ فَقَالُوا : هَذَا وَادِي الأَزْرَقِ ، قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام هَابِطًا مِنَ الثَّنِيَّةِ ، وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ ، ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَى ، فَقَالَ : أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ؟ قَالُوا : ثَنِيَّةُ هَرْشَى ، قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَام ، عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ ، جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ ، نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ ، وَهُوَ يُلَبِّي " ، قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ هُشَيْمٌ : يَعْنِي لِيفًا .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی ازرق میں گزرے تو پوچھا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے کہا: وادی ازرق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں وہ اتر رہے ہیں چوٹی سے اور آواز سے لبیک پکار رہے ہیں۔“پھر آپ ہرشا کی چوٹی (ٹیکری) پر آئے (وہ ایک پہاڑ ہے شام اور مدینہ کے راستے پر جحفہ کے قریب) آپ نے پوچھا: ”کہ کون سی ٹیکری ہے۔“ لوگوں نے کہا: یہ ہرشا کی ٹیکری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا میں دیکھ رہا ہوں یونس بن متی علیہ السلام کو وہ ایک سرخ اونٹنی گھٹی ہوئی پر سوار ہیں اور ایک جبہ پہنے ہیں بالوں کا، ان کی اونٹنی کی نکیل «خلبه» کی ہے اور وہ لبیک کہہ رہے ہیں۔“ابن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں بیان کیا ہے کہ ہشیم نے کہا: «خلبه» سے مراد «ليف» ہے۔ (یعنی کھجور کے درخت کی چھال)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی ازرق سے گزرے تو پوچھا یہ کون سی وادی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ وادی ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ چوٹی سے اتر رہے ہیں اور بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔ پھر ہرشا کی ٹیکری کے پاس آئے تو پوچھا یہ کون سی ٹیکری ہے۔ بتایا گیا ہرشا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گویا میں یونس بن متی علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، وہ سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، بالوں کا جبہ پہنے ہوئے ہیں اور تلبیہ کہہ رہے ہیں۔ وادی ازرق، ہرشا، موسیٰ علیہ السلام کا تلبیہ، یونس علیہ السلام کا تلبیہ اور انبیاء کا حج اس حدیث کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء علیہم السلام نے بھی اللہ کے حضور تلبیہ کہا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص مقامات پر انبیاء کے مناظر کا ذکر فرمایا۔
- موسیٰ علیہ السلام اور یونس علیہ السلام دونوں کا تلبیہ اس روایت میں آیا ہے۔
- حدیث میں مقامات، سواری اور لباس کی تفصیل بھی محفوظ کی گئی ہے۔
