حدیث ۴۲۱
صحیح مسلم : ۴۲۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۱
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، فَمَرَرْنَا بِوَادٍ ، فَقَالَ : أَيُّ وَادٍ هَذَا ؟ فَقَالُوا : وَادِي الأَزْرَقِ ، فَقَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ ، وَشَعَرِهِ ، شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ ، وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي ، قَالَ : ثُمَّ سِرْنَا ، حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ ، فَقَالَ : أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ؟ قَالُوا : هَرْشَى أَوْ لِفْتٌ ، فَقَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ ، عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ خِطَامُ ، نَاقَتِهِ لِيفٌ خُلْبَةٌ ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے مکہ اور مدینہ کے بیچ میں ایک وادی پر گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سی وادی ہے۔“ لوگوں نے کہا: وادی ازرق۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا میں دیکھ رہا ہوں موسیٰ علیہ السلام کو۔“ پھر بیان کیا ان کا رنگ اور بالوں کا حال جو یاد نہ رہا داوَد بن ابی بند کو (جو راوی ہے اس حدیث کا) اور انگلیاں اپنے کانوں میں رکھی ہیں اور اللہ کو پکار رہے ہیں آواز سے لبیک کہہ کر اس وادی میں سے جا رہے ہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم چلے یہاں تک کہ ایک ٹیکری پر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سی ٹیکری ہے۔“ لوگوں نے کہا ہرشا کی، یا لفت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا میں دیکھ رہا ہوں یونس علیہ السلام کو ایک سرخ اونٹنی پر ایک جبہ صوف کا پہنے ہوئے اور ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے چھال کی ہے اس وادی میں لبیک کہتے ہوئے جا رہے ہیں۔“
