صحیح مسلم حدیث ۴۲۲ - موسیٰ علیہ السلام کا تلبیہ
موسیٰ علیہ السلام کا تلبیہ اور انبیاء کے اوصاف
صحیح مسلم : ۴۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۲
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمْ أَسْمَعْهُ ، قَالَ : ذَاكَ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : أَمَّا إِبْرَاهِيمُ ، فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ ، وَأَمَّا مُوسَى ، فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ ، مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي " .
مجاہد روایت:
ہم سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے۔ لوگوں نے ذکر کیا دجال کا اور کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں کافر کا لفظ لکھا ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو میں نے نہیں سنا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام تو ایسے ہیں جیسے تم اپنے صاحب کو دیکھتے ہو (یعنی میری مشابہ ہیں صورت میں) اور موسیٰ علیہ السلام ایک شخص ہیں گندم رنگ گھونگریالے بال والے یا گٹھے ہوئے بدن کے، سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے، گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں جب اترتے ہیں وادی میں تو لبیک کہتے ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۲ کا خلاصہ
یہ حدیث انبیاء کے اوصاف اور موسیٰ علیہ السلام کے تلبیہ کے بارے میں ہے۔ مجلس میں دجال کا ذکر ہوا اور لوگوں نے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے احتیاط سے کہا کہ یہ بات انہوں نے نہیں سنی، پھر وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے سنی تھی۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ وہ تمہارے صاحب، یعنی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سے مشابہ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ وہ گندمی رنگ، گھونگریالے بال والے یا مضبوط بدن کے تھے، سرخ اونٹ پر سوار تھے اور وادی میں اترتے وقت تلبیہ کہہ رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنی ہوئی بات کو الگ رکھنا چاہیے اور غیر سنی ہوئی بات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جو بات حدیث میں خود نہ سنی ہو اسے احتیاط سے بیان کرنا چاہیے۔
- موسیٰ علیہ السلام کے تلبیہ کا ذکر اس روایت میں صاف آیا ہے۔
- ابراہیم علیہ السلام کی مشابہت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان ہوئی ہے۔
- دینی بات میں اندازہ نہیں، نقل شدہ بات اہم ہے۔
