صحیح مسلم حدیث ۴۲۸ - معراج اور بیت المقدس کی گواہی

معراج کی گواہی: بیت المقدس نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے کر دیا گیا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۸

حَدَّثَنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ ، فَجَلَا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قریش کے لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے کر دیا بیت المقدس کو میں نے اس کی نشانیاں قریش کو بتلانی شروع کیں اور میں دیکھ رہا تھا اس کو“ (یعنی بیت المقدس کو)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۲۸ کا خلاصہ

یہ معراج اور بیت المقدس کی حدیث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب قریش نے آپ کو جھٹلایا تو آپ حطیم میں کھڑے ہوئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو آپ کے سامنے کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو بیت المقدس کی نشانیاں بتانے لگے، جبکہ آپ اسے دیکھ رہے تھے۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ معراج کے واقعے پر قریش کے سوالات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی۔ اس روایت میں نہ سفر کی پوری تفصیل ہے، نہ دوسرے مراحل کا ذکر؛ یہاں خاص طور پر بیت المقدس کی نشانیاں بیان کرنے کا واقعہ آیا ہے۔ اس لیے اس کو معراج کی حدیث، بیت المقدس کی گواہی، اور قریش کے سوالات کے جواب کے طور پر سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قریش کے جھٹلانے پر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی۔
  • بیت المقدس کی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی گئیں۔
  • حدیث میں حطیم کا ذکر اسی واقعے کے ساتھ آیا ہے۔
  • ایمان والی بات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کو اصل مانا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں