حدیث ۴۲۹
صحیح مسلم : ۴۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۹
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبِطُ الشَّعْرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً ، أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَاءً ، قُلْتُ مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ ، فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ ، جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ ، أَعْوَرُ الْعَيْنِ ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : الدَّجَّالُ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، میں نے سنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میں سو رہا تھا اتنے میں میں نے اپنے تئیں دیکھا طواف کر رہا ہوں خانہ کعبہ کا اور ایک شخص کو دیکھا جو گندم رنگ تھا، اس کے بال چھٹے ہوئے تھے، سر سے پانی ٹپک رہا تھا یا بہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مریم علیہا السلام کے بیٹے ہیں، پھر میں چلا اور طرف دیکھنے لگا تو ایک شخص کو دیکھا، سرخ رنگ موٹا، داہنی آنکھ کا کانا گویا اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور ہے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ دجال ہے۔ سب لوگوں میں اس سے زیادہ مشابہ ابن قطن ہے۔“
