حدیث ۴۳۰
صحیح مسلم : ۴۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۰
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ ، وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ ، فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا ، فَكُرِبْتُ كُرْبَةً مَا كُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ ، قَالَ : فَرَفَعَهُ اللَّهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ ، إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الأَنْبِيَاءِ ، فَإِذَا مُوسَى قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ ، كَأَنَّهُ مِنَ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَإِذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَائِمٌ يُصَلِّي أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ " ، وَإِذَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَائِمٌ يُصَلِّي أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ ، فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنً الصَّلَاةِ ، قَالَ قَائِلٌ : يَا مُحَمَّدُ هَذَا مَالِكٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ ، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ ، فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے تئیں دیکھا حطیم میں اور قریش مجھ سے میری سیر کا حال پوچھ رہے تھے (یعنی معراج کا) تو انہوں نے بیت المقدس کی کئی چیزیں پوچھیں، جن کو میں بیان نہ کر سکا مجھے بڑا رنج ہوا ایسا رنج کبھی نہیں ہوا تھا پھر اللہ نے بیت المقدس کو اٹھا کر میرے سامنے کر دیا میں اس کو دیکھنے لگا اب جو بات وہ پوچھتے تھے میں بتا دیتا تھا اور میں نے اپنے تئیں پیغمبروں کی جماعت میں پایا دیکھا تو موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں، وہ ایک شخص میں میانہ تن و توش کے اور گھٹے ہوئے جسم کے جیسے شنوءہ کے لوگ ہوتے ہیں اور دیکھا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھی، وہ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں سب سے زیادہ مشابہ ان کے میں عروہ ابن مسعود ثقفی کو پاتا ہوں اور دیکھا تو ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں سب سے زیادہ مشابہ ان کے تمہارے صاحب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو فرمایا پھر نماز کا وقت آیا تو میں نے امامت کی (اور سب پیغمبروں علیہم السلام نے میرے پیچھے نماز پڑھی) جب میں نماز سے فارغ ہوا تو ایک بولنے والا بولا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مالک ہے جہنم کا داروغہ اس کو سلام کیجئیے۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے خود پہلے سلام کیا۔“
