صحیح مسلم حدیث ۴۲۸۱ - امارت مانگنے سے بچیں اور بہتر کام کریں
امارت کی حدیث: حکومت مانگنے سے بچنا اور قسم کا کفارہ
صحیح مسلم : ۴۲۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۸۱
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ الْجُلُودِيُّ : حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَاسَرْجَسِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ،
عبدالرحمٰن بن سمرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! مت درخواست کر حکومت کی کیونکہ اگر درخواست پر تجھے حکومت ملے گی تو اللہ تعالیٰ تیری مدد نہ کرے گا اور جو بغیر درخواست کے ملے تو اللہ تعالیٰ تیرا مددگار ہو گا اور جب تو کسی کام پر قسم کھائے پھر اس کا خلاف بہتر سمجھے تو کفارہ دے قسم کا اور جو کام بہتر ہے وہ کر۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۸۱ کا خلاصہ
یہ حدیث امارت، حکومت اور قسم کے کفارہ کے بارے میں بہت صاف رہنمائی دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ حکومت کی درخواست نہ کرو۔ اگر کوئی منصب مانگ کر ملے تو آدمی اس کے بوجھ کے حوالے کر دیا جاتا ہے، اور اگر بغیر مانگے ملے تو اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوتی ہے۔ اس میں قیادت کی ذمہ داری کا احساس ہے، شوق یا طلب کا نہیں۔ حدیث کا دوسرا حصہ قسم کے بارے میں ہے۔ اگر آدمی کسی کام پر قسم کھا لے، پھر اسے دوسرا کام بہتر لگے، تو قسم کا کفارہ دے اور بہتر کام کرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضد کے بجائے خیر کو اختیار کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حکومت یا منصب مانگنے میں احتیاط کرنی چاہیے۔
- بغیر مانگے ذمہ داری ملے تو اللہ کی مدد کی امید رکھی جا سکتی ہے۔
- قسم کے بعد بہتر راستہ واضح ہو تو کفارہ دے کر بہتر کام کیا جائے۔
- دین میں ضد کے بجائے بھلائی کو ترجیح دی گئی ہے۔
