صحیح مسلم حدیث ۴۲۸۰ - سوال کرنے والے کو عطا کرنا اور قسم سے رجوع
خیر کا انتخاب: قسم کے بعد سخاوت والی راہ
صحیح مسلم : ۴۲۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۸۰
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ تَمِيمَ بْنَ طَرَفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَزَادَ وَلَكَ أَرْبَعمِائَة فِي عَطَائِي .
تمیم بن طرفہ روایت:
میں نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا ایک شخص نے ان سے سوال کیا پھر بیان کیا اسی طرح جیسے اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: تو چادر سو درہم لے میری تنخواہ میں سے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۸۰ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے اسی واقعے کو بیان کرتی ہے جس میں ایک شخص نے سوال کیا۔ پچھلی روایت کی طرح یہاں بھی اصل مضمون یہ ہے کہ عدی رضی اللہ عنہ نے پہلے قسم کھائی تھی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد کر کے بہتر کام کی طرف آئے۔ اس روایت میں اضافہ ہے کہ انہوں نے کہا: میری تنخواہ میں سے تمہارے لیے چار سو درہم ہیں۔ اس سے واقعے کی عملی صورت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ قسم کے بعد بہتر کام کرنا صرف زبان کا اصول نہیں رہا، بلکہ عدی رضی اللہ عنہ نے اسے دینے اور مدد کرنے میں اپنایا۔ حدیث کی حد میں رہتے ہوئے ہم یہی کہتے ہیں کہ جب خیر کا راستہ سامنے آ جائے تو آدمی اپنی پہلی سخت بات کو رکاوٹ نہ بنائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بہتر کام سمجھ آنے کے بعد عملی قدم بھی اٹھانا چاہیے۔
- قسم کے بعد خیر کا راستہ واضح ہو تو اس کی طرف آنا بہتر ہے۔
- مدد کے معاملے میں سختی کے بجائے بھلائی کا پہلو اختیار کیا جا سکتا ہے۔
