صحیح مسلم حدیث ۴۲۷۹ - قسم کے بعد بہتر کام کو اختیار کرنے کی عملی مثال
خیر کا انتخاب: قسم کے باوجود بہتر کام کیا جائے
صحیح مسلم : ۴۲۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۷۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ " وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ مِائَةَ دِرْهَمٍ ، فَقَالَ : تَسْأَلُنِي مِائَةَ دِرْهَمٍ وَأَنَا ابْنُ حَاتِمٍ وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكَ ، قَالَ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ثُمَّ رَأَى خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " ،
عدی بن حاتم روایت:
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص ان کے پاس آیا اور سو درہم مانگنے لگا۔ انہوں نے کہا: تو مجھ سے سو درہم مانگتا ہے اور میں حاتم کا بیٹا ہوں قسم اللہ تعالیٰ کی میں تجھے نہ دوں گا پھر کہا: میں ایسا ہی کرتا (یعنی تجھے نہ دیتا) اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص قسم کھائے کسی کام کی پھر اس سے بہتر دوسرا کام سمجھے تو جو بہتر ہے وہ کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور سو درہم مانگنے لگا۔ عدی رضی اللہ عنہ نے پہلے قسم کھا لی کہ میں تجھے نہیں دوں گا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد کیا کہ جو شخص کسی کام کی قسم کھائے، پھر اس سے بہتر دوسرا کام سمجھے، تو جو بہتر ہے وہ کرے۔ یہ واقعہ صرف ایک مالی سوال نہیں، بلکہ قسم کے بعد بہتر کام کو اختیار کرنے کی عملی مثال ہے۔ آدمی کبھی جذبات میں قسم کھا لیتا ہے، پھر اسے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا رویہ زیادہ مناسب ہے۔ اس حدیث میں اسی موقع پر خیر کی طرف آنے کی تعلیم ہے۔ یہاں لفظی طور پر کفارہ کا ذکر نہیں، اس لیے بیان کو اسی حد تک رکھا گیا ہے کہ بہتر کام کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جذبات میں کھائی گئی قسم کے بعد بھی بہتر بات دیکھی جا سکتی ہے۔
- مدد کا معاملہ آئے تو خیر والے پہلو کو سمجھنا چاہیے۔
- قسم کو بہتر کام سے روکنے والی ضد نہیں بنانا چاہیے۔
