صحیح مسلم حدیث ۴۲۸۳ - قسم میں سامنے والے کی نیت کا اعتبار
قسم کی نیت: قسم لینے والے کے مطلب کا اعتبار
صحیح مسلم : ۴۲۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۸۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، وَقَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ عَلَيْهِ صَاحِبُكَ " ، وقَالَ عَمْرٌو : يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم تیری اسی مطلب پر ہو گی جس پر تیرا صاحب تجھے سچا سمجھے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۸۳ کا خلاصہ
یہ حدیث قسم کی نیت کے بارے میں بہت اہم اصول بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری قسم اس مطلب پر ہو گی جس پر تمہارا صاحب تمہیں سچا سمجھے۔ یعنی جب کوئی شخص کسی معاملے میں تم سے قسم لیتا ہے تو الفاظ کو اپنی چھپی ہوئی نیت کے مطابق موڑنا درست نہیں۔ اصل اعتبار اس بات کا ہے کہ سامنے والا شخص تمہاری بات کو کس معنی میں سمجھ رہا ہے۔ اس حدیث کا موضوع قسم کی حدیث، نیت اور سچائی ہے۔ عام گفتگو میں انسان کبھی الفاظ کا ایسا استعمال کرتا ہے جس سے سامنے والا کچھ اور سمجھتا ہے اور کہنے والا اندر کچھ اور نیت رکھتا ہے۔ حدیث اس انداز کو روکتی ہے اور معاملے کو صاف رکھنے کی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قسم میں دھوکا دینے والی نیت سے بچنا چاہیے۔
- قسم کا مطلب سامنے والے کے سمجھنے سے جڑا ہو سکتا ہے۔
- الفاظ کو چھپی ہوئی نیت سے موڑنا درست رویہ نہیں۔
- معاملات میں صاف بات اور سچائی ضروری ہے۔
