صحیح مسلم حدیث ۴۲۸۴ - قسم لینے والے کی نیت کا حکم

قسم لینے والے کی نیت: اليمين على نية المستحلف

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۸۴

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم کا مطلب قسم دینے والے کی نیت کے موافق ہو گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۲۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم، قسم دینے والے کی نیت کے مطابق ہو گی۔ یہ بات بہت عام فہم ہے کہ جب کوئی شخص کسی حق یا معاملے میں قسم لیتا ہے تو وہ ایک خاص مطلب پوچھ رہا ہوتا ہے۔ اس وقت قسم کھانے والا اپنی الگ خفیہ نیت بنا کر الفاظ کو بدل نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حدیث قسم کی نیت، سچ بولنے اور معاملات کو صاف رکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔ یہاں اصل زور اس بات پر ہے کہ قسم کو کھیل نہ بنایا جائے۔ آدمی کو چاہیے کہ جس بات پر اسے قسم دی جا رہی ہے، اسی واضح مطلب کے مطابق جواب دے۔ اس سے باہمی اعتماد بھی محفوظ رہتا ہے اور جھگڑے بھی کم ہوتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قسم میں اصل مقصد کو چھپانا درست نہیں۔
  • قسم دینے والے کی نیت کا اعتبار حدیث میں بیان ہوا ہے۔
  • معاملات میں صاف گوئی اختیار کرنی چاہیے۔
  • الفاظ کے ذریعے دھوکا دینے سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں