صحیح مسلم حدیث ۴۲۹۷ - نذر اعتکاف کی مزید روایت
نذر اعتکاف: ایک دن کے ذکر والی روایت
صحیح مسلم : ۴۲۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۹۷
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق كِلَاهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي النَّذْرِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا اعْتِكَافُ يَوْمٍ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۹۷ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی اسی نذر کے بارے میں ہے جس کا ذکر پچھلی روایات میں گزرا۔ اس میں بتایا گیا کہ روایت دونوں سندوں سے آئی ہے اور دونوں میں ایک دن کے اعتکاف کا ذکر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اعتکاف والی نذر کا حکم بیان کیا گیا۔ اس حدیث میں کوئی نیا لمبا واقعہ نہیں، بلکہ پہلے مضمون کی تائید ہے۔ نذر کی حدیث پڑھتے وقت یہ سمجھنا چاہیے کہ دین میں عبادت سے متعلق وعدہ سنجیدہ چیز ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے لیے کوئی عبادت لازم کرنے کی بات کہہ دے، تو اسے کھیل یا معمولی بات نہ سمجھا جائے۔ اس روایت کا پیغام یہ ہے کہ اعتکاف کی نذر کو ادا کیا جائے، جیسا کہ پچھلی روایات میں حکم آیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت نذر اعتکاف کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- اس میں ایک دن کے اعتکاف کا ذکر موجود ہے۔
- عبادت کی نذر کو معمولی نہیں لینا چاہیے۔
- دینی وعدے کو پورا کرنے کی طرف توجہ دی گئی ہے۔
