صحیح بخاری حدیث ۲۰۴۳ - اعتکاف کی نذر پوری کرو
اعتکاف کی نذر: اپنی نذر پوری کرنے کی آسان سمجھ
صحیح بخاری : ۲۰۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۴۳
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، قَالَ : أُرَاهُ قَالَ لَيْلَةً ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْفِ بِنَذْرِكَ " .
ابن عمر روایت:
عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں مسجد الحرام میں اعتکاف کی نذر مانی تھی، عبید نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے رات بھر کا ذکر کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۴۳ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے قریب ہے، لیکن اس میں بات مختصر انداز میں آئی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں مسجد الحرام میں اعتکاف کی نذر مانی تھی، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے رات بھر کا ذکر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کرو۔ اس حدیث سے نذر پوری کرنے کا صاف سبق ملتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کے لیے کوئی جائز کام اپنے اوپر لازم کر لے، تو اسے اسے پورا کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ یہاں اعتکاف، مسجد الحرام، اور نذر تینوں موضوعات ایک ساتھ آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جائز دینی نذر کو پورا کرنا چاہیے۔
- اعتکاف کی نذر کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔
- مسجد الحرام میں اعتکاف ایک باعزت عبادت ہے۔
- دینی سوال میں اندازہ نہیں، رہنمائی ضروری ہے۔
