صحیح مسلم حدیث ۴۳۲۰ - نیک غلام کے لیے دو اجر
نیک غلام کے لیے دو اجر: عبادت، خیر خواہی اور ماں کی خدمت
صحیح مسلم : ۴۳۲۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۲۰
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوكِ الْمُصْلِحِ أَجْرَانِ " ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْحَجُّ وَبِرُّ أُمِّي ، لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ ، قَالَ : وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَمْ يَكُنْ يَحُجُّ حَتَّى مَاتَتْ أُمُّهُ لِصُحْبَتِهَا ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : فِي حَدِيثِهِ لِلْعَبْدِ الْمُصْلِحِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَمْلُوكَ ،
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام نیک ہو اس کو دوہرا ثواب ہے۔“ (ایک تو اپنے مالک کی خیرخواہی کا دوسرے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا) قسم اس کی جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! اگر جہاد نہ ہوتا اور حج اور ماں کے ساتھ سلوک کرنا ہوتا تو میں یہ خواہش کرتا کہ غلام ہو کر مروں، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حج نہیں کہا اپنی ماں کی خدمت میں رہے جب تک وہ زندہ رہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نیک غلام کے لیے دو اجر ہیں۔ روایت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا قول بھی آیا کہ اگر اللہ کے راستے میں جہاد، حج اور ماں کے ساتھ حسن سلوک کی ذمہ داری نہ ہوتی تو وہ پسند کرتے کہ غلامی کی حالت میں وفات پائیں۔ پھر بیان ہوا کہ وہ اپنی ماں کی خدمت کی وجہ سے ان کی زندگی تک حج نہیں کرتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع نیک غلام کا دوہرا اجر ہے، یعنی وہ اپنی حالت میں بھی نیکی کر سکتا ہے اور اللہ کے ہاں اجر پا سکتا ہے۔ یہاں مالک کی خیر خواہی، اللہ کی عبادت، اور ماں کی خدمت جیسے پہلو سامنے آتے ہیں۔ حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ جس حالت میں انسان ہو، اس میں نیکی کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ ذمہ داری کو اچھے طریقے سے نبھانا بھی اجر کا سبب بن سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک غلام کے لیے دو اجر کی خوشخبری بیان ہوئی ہے۔
- انسان اپنی حالت میں رہ کر بھی نیکی کر سکتا ہے۔
- ماں کی خدمت کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بہت اہم سمجھا۔
- عبادت، خیر خواہی اور ذمہ داری کو ساتھ رکھنا چاہیے۔
